ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے - اکبر الہ آبادی
ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے ڈاکا تو نہیں مارا چوری تو نہیں کی ہے …
ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے ڈاکا تو نہیں مارا چوری تو نہیں کی ہے …
ہاتھ آنکھوں پہ رکھ لینے سے خطرہ نہیں جاتا دیوار سے بھونچال کو روکا نہیں جاتا دع…
یارب غم ہجراں میں اتنا تو کیا ہوتا جو ہاتھ جگر پر ہے وہ دست دعا ہوتا اک عشق کا…
بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے اک کھیل ہے اورنگ س…
نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل کا قرار ہوں کسی کام میں جو نہ آ سکے میں…
چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے ہم کو اب تک عاشقی کا وہ زمانا یاد ہے باہزار…
امریکہ۔ایران معاہدہ نافذ، اہم نکات کیا ہیں؟ واشنگٹن/تہران: امریکہ اور ایران کے …
کچھ تو ہوا بھی سرد تھی کچھ تھا ترا خیال بھی دل کو خوشی کے ساتھ ساتھ ہوتا رہا م…
ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے تمہیں کہو کہ یہ انداز گفتگو کیا ہے نہ شع…
وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو وہی یعنی وعدہ نباہ کا ت…
کبھی کسی کو مکمل جہاں نہیں ملتا کہیں زمین کہیں آسماں نہیں ملتا تمام شہر میں ای…
یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا ترے وع…
آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہوتے تک کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہوتے تک دام ہر موج می…
گلوں میں رنگ بھرے باد نوبہار چلے چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے قفس اداس ہ…
کالج کی وہ صبح باقی دنوں جیسی ہی تھی، مگر پتہ نہیں کیوں میرا دل بار بار آخری ص…
دونوں جہان تیری محبت میں ہار کے وہ جا رہا ہے کوئی شب غم گزار کے ویراں ہے مے ک…
دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے آخر اس درد کی دوا کیا ہے ہم ہیں مشتاق اور وہ بیزار یا…
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں تہی زندگی سے نہی…
زحال مسکیں مکن تغافل دورائے نیناں بنائے بتیاں کہ تاب ہجراں ندارم اے جاں نہ لیہ…
فقیرانہ آئے صدا کر چلے کہ میاں خوش رہو ہم دعا کر چلے جو تجھ بن نہ جینے کو کہتے …